دور دم

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - دیر تک دوڑنے والا، تادیر جس کی سانس نہ پھولتی ہو۔ "مسلمان امیروں نے ایسے دور دم اونٹ اور گھوڑے سدھانے کا خاص اہتمام کیا تھا جو ایک دن رات میں سو میل کی منزل معمولاً طے کر سکتے تھے۔"      ( ١٩٥٣ء، تاریخ مسلمانان پاکستان و بھارت، ٢٢٠ )

اشتقاق

فارسی زبان سے اسم صفت 'دور' کے ساتھ مصدر 'دمَیدن' سے حاصل مصدر دَم لگایا گیا ہے۔ اردو میں ١٨٥٧ء کو "گلزار سرور" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دیر تک دوڑنے والا، تادیر جس کی سانس نہ پھولتی ہو۔ "مسلمان امیروں نے ایسے دور دم اونٹ اور گھوڑے سدھانے کا خاص اہتمام کیا تھا جو ایک دن رات میں سو میل کی منزل معمولاً طے کر سکتے تھے۔"      ( ١٩٥٣ء، تاریخ مسلمانان پاکستان و بھارت، ٢٢٠ )